12 جولائی 2026 - 18:14
عمان میں امریکی بیڑوں کی Achilles' heel پر حملے کا راز

عمان کی بندرگاہ دُقم میں امریکی لاجسٹک سپورٹ سینٹرز اور ایندھن کے پلیٹ فارمز پر سپاہ پاسداران کا حملہ، اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ امریکی طیارہ بردار جہاز تو ایٹمی ایندھن سے چلتے ہیں تو پھر ان ڈھانچوں کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی فوج کی جارحیت کے جواب کے تیسرے مرحلے میں، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اعلان کیا کہ اس نے "عمان کی بندرگاہ دُقم میں امریکی بحری جہازوں کے لاجسٹک سپورٹ سینٹرز اور طیارہ بردار جہازوں کے فیولنگ پلیٹ فارمز کے سینٹرز" کو حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

پہلی نظر میں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ امریکی طیارہ بردار جہاز تو ایٹمی ایندھن سے چلتے ہیں تو پھر ایندھن پلیٹ فارمز کو نشانہ بنانے کی کیا اہمیت ہے؟ اس سوال کے جواب کو "طیارہ بردار جہاز کے ایندھن" اور ساتھ چلنے والے بحری "بیڑے کے ایندھن" کے درمیان فرق میں تلاش کرنا چاہئے۔

عمان میں امریکی بیڑوں کی Achilles' heel پر حملے کا راز

عمان میں امریکی بیڑوں کی Achilles' heel پر حملے کا راز

عمان میں امریکی بیڑوں کی Achilles' heel پر حملے کا راز

بحری جہاز ایٹمی ہے؛ لیکن بیڑا نہیں

"نمٹز" (USS Nimitz) "جیرالڈ آر. فورڈ" (USS Gerald R. Ford) کلاس کے طیارہ بردار جہاز اپنی قوت محرکہ ایٹمی ری ایکٹرز سے حاصل کرتے ہیں اور انہیں حرکت کے لئے فوسل ایندھن کی ضرورت نہیں ہوتی؛ لیکن یہ خصوصیت صرف خود جہاز کے propulsion system سے متعلق ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کے ساتھ نیوی گروپ میں شامل جنگی بیڑہ بھی ایندھن کے ڈھانچے سے بے نیاز ہے، اور جب بیڑے کو ایندھن نہیں ملے گا، تو طیارہ بردار جہاز بھی اپاہج ہو جاتا ہے، لیکن کیوں؟ اس لئے کہ:

ایک طیارہ بردار جہاز کبھی بھی اکیلے مشن پر نہیں جاتا۔ یہ تیرتی ہوئی مشین ہمیشہ ایک جنگی بیڑے کے مرکز میں ـ جس میں ڈسٹرائرز، کروزرز، سپورٹ کرنے والے اور رسد والے جہاز شامل اوبے ہیں، ـ فعال ہو سکتا ہے۔ ان جہازوں کا بڑا حصہ اب بھی ڈیزل انجن یا گیس ٹربائن استعمال کرتا ہے اور اپنا مشن  جاری رکھنے کے لئے سمندری ایندھن پر منحصر ہے۔

ہوائی جہاز بھی ایندھن کے بغیر پرواز نہیں کرتے

معاملہ صرف ہمراہ شناوروں تک محدود نہیں ہے۔ بحری جہاز کے عرشے پر موجود درجنوں لڑاکا طیارے، ابتدائی انتباہی طیارے، الیکٹرانک وارفیئر طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی آپریشنز کے لئے ایندھن کے محتاج ہیں۔

اگرچہ طیارہ بردار جہاز اس ایندھن کا کچھ حصہ اپنے اندرونی ٹینکوں میں محفوظ رکھتا ہے، لیکن طویل مدتی مشنز میں، ان ذخائر کو لاجسٹک جہازوں یا بندرگاہی ڈھانچوں سے مسلسل پر کرنا پڑتا ہے۔ اسی لئے، وہ بندرگاہیں جو زیادہ مقدار میں ایندھن کی منتقلی، مرمت اور سپورٹ کی سہولت فراہم کرتی ہیں، امریکی بیڑوں کی آپریشنز کے اہم حلقوں کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔

عمان میں امریکی بیڑوں کی Achilles' heel پر حملے کا راز

فارسی میں پڑھئے

"دُقم کی گودی" کی اہمیت کیا ہے؟

عمان کی دُقم بندرگاہ حالیہ برسوں میں شمالی بحر ہند اور بحیرہ عرب میں امریکی بحری رسد کے اہم ترین مراکز میں سے ایک بن گئی ہے۔ یہ بندرگاہ خصوصی گودیوں، ایندھن ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں، پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کے راستوں اور مرمتی ڈھانچوں کے ساتھ، بڑے فوجی جہازوں ـ بشمول طیارہ بردار جہازوں ـ کو خدمات فراہم کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

گذشتہ برسوں میں بھی امریکی طیارہ بردار جہاز بارہا مرمت، لاجسٹک خدمات اور سپورٹ حاصل کرنے کے لئے اس بندرگاہ پر لنگر انداز ہوئے ہیں۔

* عمان کی بندرگاہ دُقم

مقصد: سپورٹ چین (support chain) کو نقصان پہنچانا

اسی بنا پر، گودیوں اور ایندھن کے مراکز کو نشانہ بنانا ایک بندرگاہی تنصیب پر حملے سے بالاتر ہے۔ ایسے ڈھانچے جنگی بیڑوں کی سپورٹنگ چینل شمار ہوتی ہیں اور ان میں کوئی بھی خلل ہمراہ جہازوں، سپلائی جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے کے عمل اور فضائی و بحری آپریشنز کے لئے درکار ریفیولنگ کو مشکل سے دوچار کرتا ہے۔

دوسرے الفاظ میں، اگرچہ ایٹمی ری ایکٹر طیارہ بردار جہاز کو توانائی فراہم کرتا ہے، لیکن ایک بیڑے کی جنگی صلاحیت، رسد، ایندھن کی فراہمی، مرمت اور سپورٹ ڈھانچوں کے ایک نیٹ ورک پر منحصر ہوتی ہے؛ ایک ایسا نیٹ ورک جو سمندر میں مسلسل موجودگی اور کاروائیون کو یقینی بناتا ہے اور اسی لئے، فوجی نقطہ نظر سے اسے اسٹراٹیجک اور مؤثر اہداف میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha